عام دستیاب اجزاء، سادہ کھانوں اور متنوع انتخاب کے ذریعے سمجھیں کہ روزمرہ کا متوازن کھانا کیسا ہو سکتا ہے۔ ہم یہاں سخت ڈائٹ پلان کے بجائے لچکدار اور حقیقت پسندانہ تجاویز پیش کر رہے ہیں۔
صحت مند کھانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ کو اپنا پسندیدہ کھانا چھوڑنا پڑے یا بازار سے کچھ خاص درآمد شدہ اشیاء منگوانی پڑیں۔ ہمارے مقامی پاکستانی کھانوں میں توازن پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔
ایک متوازن کھانے میں عام طور پر اناج (جیسے گندم کی روٹی)، پروٹین (جیسے انڈے، چنے، دال، یا مرغی)، سبزیاں، اور پکانے کے لیے مناسب مقدار میں تیل یا گھی شامل ہوتا ہے۔ سب سے اہم بات اعتدال اور معمول ہے۔ اگر آپ کا دن دفتر کی کرسی پر گزرتا ہے، تو آپ کو بہت زیادہ کیلوریز کی ضرورت نہیں بنسبت اس شخص کے جو جسمانی مشقت کرتا ہے۔
ہر مرد کے لیے صبح کا ناشتہ لازمی نہیں ہوتا، کچھ لوگ صبح سویرے کچھ کھائے بغیر سیدھے دفتر چلے جاتے ہیں اور وہاں چائے کے ساتھ کچھ لیتے ہیں۔ تاہم، اگر آپ ناشتہ کرتے ہیں، تو اسے چینی بھری اشیاء کے بجائے متوازن رکھیں۔
ایک اُبلا ہوا یا کم تیل میں پکا ہوا انڈا، ایک گھر کی بنی درمیانی روٹی یا پراٹھا (جس میں تیل برائے نام ہو)، اور ایک کپ چائے۔ یہ سادہ ناشتہ آپ کو دوپہر تک توانا رکھتا ہے۔
ایک پیالی دہی جس میں تھوڑا سا کیلا یا سیب کاٹ کر شامل کر لیں۔ ساتھ میں چند بادام یا بھنے ہوئے چنے۔ یہ خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں بہترین ہے۔
لاہور ہو یا پشاور، دوپہر کا کھانا عام طور پر کام کی جگہ پر کھایا جاتا ہے۔ دفتر کے لنچ میں سب سے بڑی غلطی بھاری اور زیادہ تیل والے کھانے منگوانا ہے، جس سے دوپہر کے بعد نیند اور سستی طاری ہوتی ہے۔
رات کا بچا ہوا سالن (جیسے بھنڈی، ٹنڈے، یا چکن)، ایک تازہ روٹی اور تھوڑا سا کھیرا۔ گھر کا یہ کھانا باہر کے کھانوں سے ہزار درجے بہتر اور محفوظ ہے۔
اگر باہر سے کھانا مجبوری ہو، تو نان پائے یا بریانی کے بجائے سادہ دال چاول، یا چنے کی دال اور روٹی کا انتخاب کریں۔ ساتھ میں کچی پیاز یا سلاد ضرور لیں۔
رات کے کھانے کے بارے میں ایک غلط فہمی یہ ہے کہ اسے مکمل چھوڑ دینا چاہیے۔ حقیقت میں، دن بھر کی تھکاوٹ کے بعد خاندان کے ساتھ رات کا کھانا ایک سماجی اور جسمانی ضرورت ہے۔ کوشش کریں کہ اسے سونے سے کم از کم دو گھنٹے پہلے کھا لیں۔
کوئی بھی سبزی گوشت (جیسے پالک گوشت یا گاجر آلو)، روٹی، اور تھوڑا سا رائتہ۔ اگر سالن میں تیل زیادہ ہو تو روٹی خشک کھا لیں۔
اگر دوپہر میں آپ نے بہت بھاری کھانا کھایا تھا، تو رات کو صرف دلیہ، یا دودھ کا ایک گلاس اور چند کھجوریں کھا کر بھی سویا جا سکتا ہے۔
پروٹین اہم ہے مگر واحد حل نہیں: بہت سے مردوں کو لگتا ہے کہ صرف گوشت خوری سے ہی طاقت آتی ہے۔ درحقیقت، چنا، لوبیا، دالیں، انڈے اور دہی بھی بہترین پروٹین فراہم کرتے ہیں۔
روٹی اور چاول کو دشمن نہ سمجھیں: کاربوہائیڈریٹس ہمارے جسم کا بنیادی ایندھن ہیں۔ آپ کو انہیں مکمل طور پر ختم کرنے کی ضرورت نہیں، بس اپنی جسمانی مشقت کے لحاظ سے مقدار کم یا زیادہ کریں۔
پانی کا استعمال: ہر شخص کے لیے پانی کی مقدار مقرر نہیں۔ اپنے پیشاب کی رنگت اور پیاس کو مدنظر رکھیں۔ دفتر کے اے سی (AC) میں بیٹھنے والوں کو پانی کی یاد دہانی کی ضرورت ہوتی ہے۔